Ghar e Hira History in Urdu (Jabal-e-Noor) غار حراء کی تاریخ

Dar-Ul -Rahat
5 minute read
0

 

Ghar e Hira History in Urdu available with all facts, such as exact location, height in feet, How many stairs ?, Ghar e Hira غار حراء distance from Makkah, etc.

The History of Ghar-e-Hira in Urdu is important to Muslims because it is closely tied to the early history of Islam, the revelation of the Quran, and the spiritual journey of the Prophet Muhammad. It serves as a symbol of devotion, faith, and the quest for spiritual enlightenment, making it a significant aspect of Islamic heritage and identity.

Ghar e Hira History in Urdu.

غار حرا عرب کے تاریخی اور عصری مقامات میں سے ایک ہے جو مسلمانوں کے لیے اہم ہے۔ یہ مقام اس لیے بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا پیغام پہنچا۔ غار حرا کی تاریخ اور اہمیت جاننے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنا ہوگا۔

جبل النور کو “روشنی کی پہاڑی” یا “روشنی کا پہاڑ” کے نام سے جانا جاتا ہے، جبل النور پہاڑ غار حرا کے لیے مشہور ہے۔ غار حراء، جو مکہ شریف سے کچھ کلومیٹر دور واقع ہے، قدیم زمانے سے ہی ایک اہم تاریخی مقام رہا ہے۔ اس غار کو اسلامی تاریخ میں ایک بہت اہم مقام تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا قدیمی تعارف اس طرح ہے کہ اس مقام کو ہضم الہم نامک یونانی تاریخی کتابوں میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا نام ہیرا (جواہرات) سے آیا ہے۔

غار حراء کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ غار حرا کا ذکر قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے۔ سورہ نجم میں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَلَقَدْ َنَزَّلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ “اور ہم نے آپ پر کھلے ہوئے آیات نازل کی ہیں اور اس کے کافر نہیں ہوتے سوائے فاسقوں کے۔” (ترجمہ: نجم 29:46)


جبل نور کی بلندی تقریباً 600 میٹر ہے اور غار حراء اس کی ڈھلوان پر واقع ہے، اس کی لمبائی تقریباً 3.7 میٹر (12 فٹ) اور چوڑائی 1.60 میٹر (5 فٹ 3 انچ) ہے۔یہ 270 میٹر (890 فٹ) کی بلندی پر ہے۔

غار حرا کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ وہ بھی ہے جب اس مقام پر پیغمبر اسلام ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرشتہ جبرائیل کے ذریعے اپنی پہلی وحی حاصل کی تھی۔ یہ تاریخی واقعہ تقریباً 610 عیسوی کا ہے، لیکن سب سے زیادہ قابل ذکر روایت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے غار حراء میں 40 سال تک تنہائی اختیار کی تھی۔

غار حرا کی تعمیر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ تاہم، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ غار فطری طور پر بنایا گیا تھا۔ یہ ممکن ہے کہ غار کو پہلے لوگوں نے استعمال کیا ہو، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ غار خالی پڑی تھی جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔

غار حرا کی تعمیر کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دستانے سے کھودا تھا۔ اس روایت کی کوئی تاریخی سند نہیں ہے، لیکن یہ ایک مشہور روایت ہے جو مسلمانوں کے درمیان رائج ہے۔

غار حرا کا اندرونی حصہ بہت سادہ ہے۔ اس میں کوئی سجاوٹ نہیں ہے۔ غار کی دیواروں پر کچھ کھوکھلے ہیں جن میں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستانے اور عصا ٹھہرایا تھا۔ غار حرا کو اب ایک چھوٹے سے گنبد کے ذریعے ڈھانپا گیا ہے، جسے 1985 میں سعودی حکومت نے تعمیر کیا تھا۔ گنبد کے اندر ایک چھوٹی سی مسجد ہے، جہاں مسلمان نماز پڑھ سکتے ہیں۔

غار حرا کی اہمیت کا پہلا اثر اسلام کی بنیاد رکھنے میں ہوا۔ اس وحی کی بنیاد پر پیغمبر اسلام (ص) نے اسلام کی تعلیم دی اور اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد، غار حرا میں اسلامی رسومات اور بنیاد پرستی کی تربیت شروع ہوئی، اور پیغمبر کے تعلیمی پیغام کا پتہ چلنے کے بعد مسلمانوں میں فرقہ واریت سے نمٹنے کی اپیل بڑھی۔

غار حراء نے پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی میں تین اہم ادوار دیکھے۔

پہلا دور: یہ وہ دور تھا جب پیغمبر اسلام (ص) نے غار حرا میں خلوت اختیار کیا اور عبادت کی۔

دوسرا دور: یہ وہ دور تھا جب پیغمبر اسلام ﷺ کو اپنی پہلی وحی ملی تھی۔

تیسرا دور: یہ وہ دور تھا جب پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے ساتھ غار حراء کی زیارت کی تھی۔

غار حراء ایک یادگار مقام ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کی زندگی اور اسلام کی تاریخ کی یادگار ہے۔ یہ ایک مقدس مقام ہے جو ہر مسلمان کے لیے احترام کا مقام ہے۔

غار حراء آج بھی ایک مقدس مقام ہے اور ہر سال لاکھوں مسلمان اس مقام کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ یہ زیارت ایک عظیم سعادت ہے اور یہ ہر مسلمان کے لیے ایک فرض ہے۔ غار حراء کی زیارت کے لیے کوئی خاص ضوابط نہیں ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ زائرین احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ زائرین کو غار حراء میں داخل ہونے سے پہلے اپنے پاؤں دھونے چاہئیں اور خاموش رہنا چاہیے۔

غار حرا کی زیارت کرنے کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔ البتہ رمضان المبارک کے مہینے میں یہ زیارت زیادہ ثواب والی ہے۔غار حرا کی زیارت کرنے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں ہے، البتہ زائرین کو اپنی شناخت ظاہر کرنی ہوگی۔ غار حرا کی زیارت ہر روز صبح 9:00 سے شام 5:00 بجے تک کھلی رہتی ہے۔ غار حراء کی زیارت ایک روحانی تجربہ ہے جو ہر مسلمان کو زندگی میں ایک بار کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں زائرین پیغمبر اسلام ﷺ کی روح سے قریبی تعلق محسوس کرتے ہیں۔

غار حراء ایک مقدس مقام ہے اور اس کی اہمیت کبھی نہیں بدلے گی۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جو ہر مسلمان کے لیے احترام کا مقام ہے۔ غار حراء کا مستقبل روشن ہے اور اسے مستقبل میں بھی لوگوں کی زیارت کا مرکز   رہے گا۔ یہایک ایسا مقام ہے جو ہمیشہ اسلام کے پیغام کو زندہ رکھے گا۔ 

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
To Top